حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی حفظہ اللہ کا خطبہ شعبانیہ کی شرح کے حوالے سے خطاب (حصہ سوم)

حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی حفظہ اللہ کا خطبہ شعبانیہ کی شرح کے حوالے سے خطاب (حصہ سوم)

بسم اللہ الرحمن الرحیم و بہ نستعین
*قال رسول اللہ: « وَ تَحَنّنو علی أیتامِ النَّاس یَتحَنّنُ عَلَی أیتامکُمْ»؛* جیسا کہ ہم نے پچھلی رات بیان کیا کہ ماہ رمضان فقط ایک روزہ رکھنے سے ختم نہیں ہو جاتا؛ بلکہ ماہِ رمضان، خیرات کا مہینہ ہے. ایسا مہینہ ہے جس میں انسان یتیموں، محروموں اور فقیروں کی فکر میں پڑ جاتا ہے. روزہ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ تمام مسلمانوں پر  روزہ رکھنا واجب ہے یہاں تک کہ وہ مسلمان جو تاجر اور سرمایہ دار ہیں (انکو بھی اسکی معافی نہیں دی گئی) جب ایک سرمایہ دار انسان ماہِ رمضان میں روزہ رکھے اور اسے بھوک اور پیاس محسوس ہو تو اسکے دل میں فقیروں اور بھوکے لوگوں کے لئے احساس پیدا ہوگا. روزہ کی ایک حکمت یہ ہے. چونکہ ایک مہینہ روزے رکھنا ہے ایک دو دن نہیں! جب ایک تاجر اور دولت مند شخص ماہِ رمضان میں روزے رکھے گا تو پھر وہ مسجد میں بھی تشریف لائے گا اور دینی محافل میں شرکت کرے گا تو تدریجاً خمس، زکات، طعام اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا بنے گا اور فقراء کی مدد بھی کرے گا.
پیامبر اسلامؐ فرماتے ہیں: « تَحَنّنو علی أیتام النَّاس»؛  «تَحَنَّنوا»، دراصل «حنان» کے مادہ سے ہے جسکا معنیٰ لطف و مہربانی اور نوازش ہے.
آپؐ فرماتے ہیں: اس سے پہلے کہ آپ مر جائیں اور اپنے پیچھے چھوٹے یتیم بچے چھوڑ جائیں، لذا اپنی فکر کرو!  جب تک آپ زندہ ہیں، تو اپنے اطراف دیکھو کہ کہاں یتیم اور فقیر پائے جاتے ہیں، جاو اور انکی مدد کرو تاکہ خدا نہ کرے اگر آپ اس دنیا سے چلے جائیں اور پسماندگان میں چھوٹا بچہ چھوڑ جائیں، تو خدا بھی کسی مخیّر افراد کو بھیجے  تاکہ وہ اس یتیم کے وارثان کی مدد کرے. اے عزیز من! چونکہ دنیا مکافاتِ عمل کی جگہ ہے، اگر اچھا سلوک کرو گے تو تم سے بھی اچھا رویہ رکھا جائے گا  اور اگر بدی و برائی کرو گے تو وہی دیکھو گے. یہ ایک تجربہ شدہ چیز ہے اور ہم سب اسکو جانتے ہیں. جیسا کرو گے ویسا بھرو گے.
«کما تُدِین تُدان» یعنی جس طریقے اور مرام سے ہو اسی طریقے سے تمہاری شناخت و پہچان ہوتی ہے؛ یعنی جیسا اخلاق و کردار رکھتے ہو اسی کیساتھ زندگی کے اوقات گزار رہے ہو یہ ایک طے شدہ بات ہے اور مجرِّب بھی ہے. غور کریں! ایک شخص خدا و عبادت کی سمت حرکت کرتا ہے تو اسے دوست بھی اھل عبادت ملتے ہیں. اسی طرح اگر کوئی شخص دنیا داری میں چلا جائے تو اسے دنیاوی دوست میسر ہوتے ہیں یہ ایک فطری چیز ہےاور اسکو ہم سب جانتے ہیں.
«وَ تُوبُوا الی اللہ مِن ذُنوبِکُم»؛ جب بھی گناہ سرزد ہو فوراً توبہ کیا کرو؛ کہتے ہیں«المعصیۃ تجرّ المعصیۃ والطاعۃ تجرّ الطاعۃ»؛ یعنی جب گناہ کرو اور توبہ نہ کرو تو یہ گناہ پر اصرار شمار ہوگا یعنی گناہ کے اوپر گناہ بنتا ہے. خدا کی عبادت اور اطاعت بھی اسی طرح ہے؛ جب کوئی نماز و عبادت کی طرف توجہ کرے تو پھر ہمیشہ اسکا دل عبادت اور نماز پڑھنے کی جانب مائل رہے گا اور جو معصیت کرے گا تو معصیتِ خدا کی جانب مائل ہوگا. یہ ایک تجربہ شدہ بات ہے. پس گناہ کے بعد توبہ کرنا ایک ایسی توبہ ہے جو ہمیشہ انسان کیساتھ ہے.
وہ لوگ جو کہ اپنا محاسبہ کرتے رہتے ہیں، اور خودسازی کے لئے ایک جدول بناتے ہیں، اور صبح سے لے کر رات تک اسی ٹائم ٹیبل کے مطابق کام کرتے ہیں. یعنی ایک ٹائم ٹیبل اور اخلاقی جدول بنائی ہوئی ہے. ایک طرف ہفتے کے ایام اور دوسری طرف ان ایام میں جو اعمال کرتا ہے وہ لکھتا ہے جدول کے خانے بناتا ہے پھر ہر عمل کی کیفیت کو تین چیزوں، ضعیف، متوسط او بہترین میں ڈھالتا ہے. پھر انکو ضرب دیتا ہے. لائن کھینچتا ہے اور رات کو اپنا محاسبہ کرتا ہے کہ آیا تدریجاً گناہ کو چھوڑنے میں کامیاب ہوا ہے؟.  لیکن اگر ایسے ہی نفس کو آزاد چھوڑ دے، اور اپنے آپکو آزاد رکھے، نہ خودسازی کی فکر، نہ کوئی اخلاقی جدول، نہ کوئی ٹائم ٹیبل بنایا ہوا ہو. بس جب جہاں جس وقت دل کرے کام انجام دے اور زبان کو چلاتا رہے؛ تو پھر اتنی مصروفیات کے بعد کب اپنی اصلاح کرے گا. دنیا ایک بھیڑ کی جگہ ہے! انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپکو وقت دے، کچھ لمحات تنہائی میں گزارے، اور دیکھے کہ کیا کر رہا ہے.
علم اخلاق کے علماء فرماتے ہیں: انسان کو صبح بیدار ہونے کے بعد چار کام انجام دینے چاہیے؛ پہلا مشارطہ؛ دوسرا مراقبہ؛ تیسرا محاسبہ؛ اور چوتھا معاقبہ.
مشارطہ کو صبح سویرے انجام دیا جاتا ہے؛ مشارطہ یعنی اپنے نفس کیساتھ شرط بندی. اپنے نفس سے ٹائم ٹیبل کو منظم کرنے کا تقاضا کرنا؛ اپنے نفس سے کہے: اے نفس! نیا دن نیا رزق. آج ہم آپ سے یہ چند کام چاہتے ہیں.
پھر اس دن کے وسط سے سونے تک اپنے برنامہ عملی کی مراقبت و حفاظت کرے.تاکہ ان امور کو بہترین طریقے سے انجام دے. یہ دوسرا کام ہے جسے عرفاء مراقبہ کہتے ہیں.
تیسرا کام محاسبہ ہے  محاسبہ یعنی اپنے نفس سے حساب کتاب لینا. جس کاغذ پر حساب لکھا ہوا ہے رات کو اسے اپنے سامنے رکھو اور دیکھو کہ کہاں کمی ہوئی ہے؟ کہاں کوتاہی کی ہے؟  کہاں گناہ کیا ہے؟ کہاں خطا کی ہے؟ اسی طرح ایک ایک کام کی جانچ پڑتال کرے.
چوتھے مرحلے کو معاقبہ کہتے ہیں جیسے مؤاخذہ سے نیز تعبیر کیا جاتا ہے.  یعنی اگر اس کاغذ پر چند اخلاقی موارد کو ترک کیا ہے، تو اسکا جبران کرنا چاہیے؛ اپنے آپ کو تنبیہ کرو! نفس پر جرمانہ لگاؤ! یعنی کیا ہم منتظر رہیں کہ دوسرے لوگ ہم پر جرمانہ لگائیں! ہم ایک غلط کام انجام دیں اور پھر منتظر رہیں کہ پولیس ہمیں جرمانہ کرے! کیوں ہم خود اپنے آپکو جرمانہ نہ کریں!جب نماز صبح قضا ہو جائے، تو بیس رکعت نماز پڑھو. اپنے نفس سے کہو اب جب کہ تو نے نماز شب نہیں پڑھی، تو اب بیس رکعت نماز پڑھو. اپنے آپکو جرمانہ کرو.اس کام کو چند مرتبہ انجام دو پھر ان شاء اللہ نمازِ صبح پڑھو گے. نماز شب کی پابندی کرو گے.
«وَ تُوبُوا الی اللہ مِن ذُنُوبِکُم و أَرفعُو ألیہ أیدیکم بالدّعاء»؛ پیامبر اسلامﷺ فرماتے ہیں: توبہ کے بعد خداوند تبارک و تعالیٰ کی طرف جاؤ. خدا سے زیادہ دعا کرو؛ صحیفہ سجادیہ اور مفاتیح الجنان میں چند دعائیں توبہ کے حوالے سے موجود ہیں. توبہ کی دعائیں بہت زیادہ ہیں. امام زین العابدین علیہ السلام نے مناجات خمسہ عشر کے ضمن میں دعائے تائبین کو بیان فرمایا ہے. امام علی علیہ السلام کی مسجد کوفہ میں مناجات موجود ہیں جو ٹیلی ویژن پر بھی نشر کی جاتی ہیں. دعائے ابو حمزہ ثمالی  چند صفحوں پر مشتمل ہے اور سحر کے وقت پڑھی جاتی ہے جبکہ ہم نے زیادہ تر دعائے«اللھم أنی أسئلک من بھاءک بأبھاء» کو سنا ہوا ہے. اولاً یہ تو دعا عالی مضامین پر مشتمل ہے. ثانیاً یہ مختصر دعا ہے. لیکن دعائے ابو حمزہ ثمالی ایک لمبی دعا ہے اور بلند و عالی مضامین پر مشتمل ہے. کم از کم ایک دو رات بیدار ہو جائیں اور ان دعاؤں کو پڑھیں. دعائے ابو حمزہ ثمالی، دعائے کمیل سے بھی شاید زیادہ ہو. یہ دعائیں توبہ، استغفار وغیرہ جیسے مضامین پر مشتمل ہیں جسکے بارے میں ہم نے گفتگو کی ہے.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: جب نماز ختم کر لو تو فوراً اٹھ کر چلے نہ جاؤ. بلکہ بیٹھ جاؤ تعقیباتِ نماز پڑھو. دعا کے لئے ہاتھوں کو بلند کرو چونکہ یہ وقت مخصوص ہے؛ ایسا وقت جب ہم دعا و تضرع و زاری کی حالت میں ہیں اس وقت دعا کی استجابت کا امکان زیادہ ہے؛ مظانّ ایک ایسی حالت کو کہتے ہیں جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ خدا ابھی میری دعا قبول کرے گا. اسی وجہ سے نماز کےاوقات میں، مخصوصاً ماہِ رمضان میں فرمایا گیا ہے کہ جلدی اٹھ کر چلے نہ جاؤ. اور ہاں یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کسی اجتماعی پروگرام میں دعا پڑھو بلکہ مسجد کے کسی کونے میں بیٹھ جاؤ اور اپنے لئے دعا کرو. مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ کیا مسجد میں دعائے افتتاح پڑھی جاتی ہے یا نہیں؟ دعائے افتتاح ماہِ رمضان کی دعاؤں میں سے ایک دعا ہے جو کہ ہر رات پڑھی جاتی ہے.
میرے عزیز! جو لوگ اھل دعا ہیں وہ اس دنیا سے اپنا زادِ راہ مہیا کر لیں.
*اشعار کا ترجمہ*
اگر نوحؑ جتنی عمر بھی پاؤ تو عاقبت موت ہے
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی زندہ و پائیدار نہیں. سب فنا پذیر ہیں اور باقی رہنے والی ذات فقط اسی کی ہے.
کلُّ مَن عَلیہا فان و یبقَی وَجْہُ ربِّک ذوالجلال و الاکرام.
آج جمعہ کی شام ہے. آپ لوگ جانتے ہیں کہ ایامِ ہفتہ میں سے جمعہ کا دن امام زمان ارواحنا الفداء سے منسوب ہے. بہت سی زیارتیں، مفاتیح الجنان آپ کے بارے میں نقل ہوئی ہیں؛ان دعاؤں میں ایک، دعائے غیبت ہے.چونکہ ہم اس وقت غیبت کبریٰ میں زندگی گزار رہے ہیں. دو دعائیں جو کہ غَیبت کے حوالے سے ہیں وہ بھی مفاتیح میں مذکور ہیں.
میں نے مشہد نے مشاہدہ کیا ہے کہ بعض لوگ شب جمعہ، دعائے کمیل، صبحِ جمعہ، دعائے ندبہ اور عصرِ جمعہ دعائے سمات کی محافل منعقد کرتے ہیں. لیکن بعض گھروں میں دعائے غیبت کی محفل منعقد کی جاتی ہے اور باقاعدہ مومنین کو دعوت دی جاتی ہے اور پھر سب مل کر دعائے غیبت پڑھتے ہیں.
اس دعا میں آپؑ کے بارے میں نہایت عظیم کلمات پائے جاتے ہیں لذا اس دعا کا ایک پیرا آپکی خدمت میں پیش کرتے ہیں.
«اللھُمَّ أِنَّا نَشْکُوْ أِلَیْکَ فَقدَ نَبیِّنَا صَلَوَاتُکَ عَلَیْہِ وَ آلِہِ وَ غَیْبَۃَ وَلِیِّنَا(أِمَامِنَا) وَ کَثْرَۃَ عَدُوِّنَا وَ قِلَّۃَ عَدَدِنَا وَ شِدَّۃَ الْفِتَنِ بِنَا وَ تَظَاھُرَ الزَّمَانِ عَلَینَا»؛
اے خدا ہم عصرِ غیبتِ امام زمانؑ میں، پیامبر اسلامؐ کے مفقود ہونے پر شکوہ کرتے ہیں اور شکوہ کرتے ہیں کہ ہمارا امام ہماری نظروں سے اوجَھل ہے. انکا ظہور و غیبت آپکے اختیار میں ہے اس زمانے کی سختیوں کی تجھ سے شکایت کرتے ہیں زمانہ ہم پر مسلط ہو چکا ہے آقا امام زمان کا فراق ہمارے لئے نہایت اندوہناک ہے.
«وُقوعُ الفِتِنِ» آخری زمانے کے فتنے بہت زیادہ ہیں. 
«تظاھر الاعداء» دشمن نے ہم نے غلبہ کیا ہوا ہے.
«کثرۃ عدونا» دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے.
«قلّۃ عددنا» جبکہ ہم ایک قلیل جماعت ہیں.
پس ہم کیا کریں اے خدا!
«اللھم ففرج ذلک عنا بفتح منک تعجلہ و نصر منک تعزہ و امام عدل تظھرہ» 
اے خدا! انکے ظہور میں تعجیل فرما؛ ہمیں ہر میدان میں فتح و کامیابی عطا فرما؛ ہماری مدد و نصرت فرما؛ ہمارے امامؑ کی نصرت فرما؛ «امامِ عدلِ تظھرہ»؛ ہمارے عادل امامؑ کو ظاہر فرما.
ہم سب چیونٹی ہیں آپ سلیمان بن کر آؤ
ہم سب جسم ہیں آپ جان بن کر تشریف لائیں.
علی بن مھزیار کہتا ہے: بیس دفعہ آقا امام زمان کے دیدار کی غرض سے خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے آیا تو ایک دفعہ انہوں نے مجھے اونٹ پر سوار کیا(تاکہ امام زمانؑ کے پاس لے چلیں) تو مجھے ایک بیابان سے گزارا گیا، میں نے ایک خیمہ دیکھا، اس خیمے سے آسمان تک نور پھیلا ہوا تھا. جو شخص مجھے اپنے ساتھ لایا تھا اس نے کہا: اس خیمے اور نور کو دیکھ رہے ہو؟ اس خیمے میں آپکے آقا و مولا موجود ہیں. کہتا ہے کچھ دیر بیٹھا تو گریہ کی آواز کو سنا. میں نے کہا یہ گریہ کس لئے ہے.اس نے جواب دیا. امام زمان اپنے جد حسینؑ کے مصائب پر گریہ فرما رہے ہیں.
یہ حسینؑ کون ہے جسکی پوری دنیا دیوانی ہے
یہ کیسی شمع ہے کہ تمام جانیں اسکے لئے پروانہ ہیں.
hamayesh_hadad_1442_pic1

فهرست مطالب

اشتراک گذاری در facebook
اشتراک گذاری در twitter
اشتراک گذاری در google
اشتراک گذاری در linkedin
اشتراک گذاری در digg
اشتراک گذاری در whatsapp
اشتراک گذاری در email
اشتراک گذاری در print
اشتراک گذاری در telegram